ذہین اور غیر معمولی شخصیت بنانے والی چند اہم عادتیں

صادقہ خان—فوٹو: شٹر اسٹاک
—فوٹو: شٹر اسٹاک

کیا آپ غیر معمولی ذہانت کے حامل ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں ہر کوئی خاص طور پرنوجوان نسل بہت متجسس رہتی ہے۔

عموما مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جو افراد ذہین یا حد سے زیادہ ذہین ہونے کے دعویدار ہوتے ہیں ان کی علمی صلاحیت اس پیمانے پر پورا نہیں اترتی، کیونکہ ذہین اور عملی طور پر تیز ہونا 2 علیحدہ خصوصیات ہیں، ضروری نہیں کہ جو لوگ عملی زندگی میں نہایت کامیاب ہوں، وہ ذہین بھی ہوں، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غیر معمولی دماغی صلاحیتوں کے حامل افراد عملی زندگی میں دوسروں سے پیچھے رہ جاتے ہیں،اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا وجدان عام افراد سے مختلف ہوتا ہے اور اپنے طے کردہ اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتے۔

لیکن ہم آپ کو اس مضمون کے ذریعے ذہین افراد کی ایسی عام نشانیاں بتائیں گے، جن سے یہ پتہ لگانا ممکن بن جاتا ہے کہ کون ذہین ہے اور کون نہیں، یہ یاد رہے کہ یہ نشانیاں مختلف سائنسی جرنلز میں شائع ان تحقیقاتی رپورٹس میں بتائی گئیں، جو ماہرین نے کئی سال تک دنیا کے مختلف ممالک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر تحقیق کے بعد تیار کیں۔

کئی سال کی تحقیقات کا نچوڑ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص مندرجہ ذیل 13 یا ان میں سے زیادہ تر عادات کے مالک ہے تو بلاشبہ اس کا شمار ذہین یا غیر معمولی ذہین افراد میں کیا جائیگا۔

یکسانیت

ان خصوصیات میں صف اول پر انسانی ذہن کا ارتکاز ہے، اگر کوئی شخص سالہا سال یا لمبے عرصے تک اپنی توجہ ایک ہی کام پر مبذول رکھ کراس کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لے تو بلاشبہ وہ غیر معمولی ذہنی صلاحیتیوں کا حامل ہے، ایسے افراد ثانوی باتوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنی توجہ جزیات پر رکھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اپنا مقصد یا منزل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کم سونا

دوسرے نمبر پر انسان کے سونے اور جاگنے کا معمول ہے، عمو ما مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جو بچے زیادہ ذہین ہوں، وہ دوسرے بچوں کی نسبت نہ صرف کم سوتے ہیں، بلکہ ان کے سونے جاگنے کے اوقات بھی ان سے مختلف ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 6 عجیب عادات والے افراد ہوتے ہیں ذہین

ذہین افراد بچپن سے ہی رات کو دیر سے سونے اور صبح دیرسے اٹھنے کے عادی ہوتے ہیں،اسی باعث اکثر اوقات وہ اسکول، یونیوسٹی یا آفیس آخری وقت میں بھاگم بھاگ پہنچتے ہیں۔

اگرچہ ڈسیپلن پسند افراد کو ان کی یہ عادت بہت ناگوار گزرتی ہے اور بسا اوقات انھیں نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے، مگر درحقیقت ذہین افراد کے لیے یہ افراتفری کی صورتحال بھی ایک طرح کا ایڈونچر ہوتی ہے،اور وہ اس سے پوری طرح لطف اٹھاتے ہی۔

لچکدار رویا یا اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنا

تیسری خصوصیت کا تعلق انسانی رویے سے ہے، غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کے حامل افراد سخت مزاج نہیں ہوتے، وہ لچک دار رویے کے ساتھ خود کو بہت جلد نئے ماحول میں ڈھال لینے اور نئے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کے عادی ہوتے ہیں۔

اگرچہ اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنے کے باعث عموما ذہین افراد کو مغرور سمجھا جاتا ہے، مگر در حقیقت وہ نرم دل اور معاون فطرت رکھتے ہیں، ہزاروں افراد پر نفسیاتی تحقیق کا نچوڑ بتاتا ہے کہ وہ افراد جو اپنی غلطی کھلے دل سے تسلیم کرکے نہ صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں بلکہ اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ماحول، دوستوں اور عزیز و اقرباء میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے سر گرم رہتے ہیں وہ بلاشبہ غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں۔

کم علمی کو ظاہر کرنا

وہ افراد جو کسی بھی واقع یا چیز کے متعلق اپنی کم علمی کو چھپانے کے لیے مخالف پر چڑھ دوڑنے کے بجائے کھلے دل سے تسلیم کر تے ہوئے اپنی معلومات بڑھانے کے لیے سر گرم ہوجائیں، ذہین اور با عمل افراد میں شمار کیے جاتے ہیں، ایسے افراد میں نہ تو احساس کمتری جنم لیتی ہے نہ ہی لا علمی یا ناکامی کا خوف ان کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے، لہذا وہ عملی زندگی میں بہت کامیاب ثابت ہوتے ہیں،اس حوالے سے عام لوگوں میں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ غیر معمولی ذہین وہ ہیں جو ہر شے کے بارے میں مکمل اور درست معلومات رکھتا ہو۔

جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ذہین وہ ہے جو یہ جانتا ہے کہ اسے کس چیز کے بارے میں علم ہے اور کس سے ناواقف ہے اور اس کا اعتراف کرنے میں بلکل نہیں ہچکچاتا کہ بہت سی علوم وفنون میں وہ ہنوز کورا ہے۔

متجسس ہونا

سائنسی حلقوں میں مشہور ماہر طبیعات ‘ البرٹ آئن سٹائن’ کی غیر معمولی ذہانت ہمیشہ سے موضوع بحث رہی ہے، اور اس کے بارے میں طرح طرح کے نظریات پیش کیے جاتے ہیں، مگرخود آئن سٹائن کا کہنا تھا کہ میں قطعا غیر معمولی ذہین نہیں ہوں، مگر میں حد سے زیادہ متجسس ضرو ر ہوں ۔

یعنی تجسس بھی ذہانت کی ایک واضح علامت ہے،ایک تحقیق کے مطابق بچپن کی ذہانت اور تجربات کے ساتھ زندگی بتدریج بڑھتی جاتی ہے، مگراس بڑھوتری کی رفتار ان افراد میں تیز ترین دیکھی گئی جو لوگوں، چیزوں اور رویوں سے متعلق زیادہ تجسس کا مظاہرہ کرتےہیں، وہ درسی کتابوں میں لکھے کو حرف آخر سمجھ کر رٹا مارنے کے بجائے اس کی تہہ میں پہنچ کر نئی چیزیں دریافت کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

کھلے ذہن کا مالک ہونا

غیر معمولی ذہین ہونے کی ایک اور علامت کھلے ذہن کا مالک ہونا بھی ہے،اگرچہ پاکستان میں ‘اوپن مائنڈڈ’ کو کافی حد تک غلط معنوں میں لیا جاتا ہے، یہاں سائنسی نظریات کو بھی اعتقادات، تعصب اور ذاتی پسند ناپسند کی کسوٹی پرپرکھ کر نیوٹرل افراد کو شدید لعن طعن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا ذہین افراد کی یہ عجیب نشانیاں آپ میں بھی ہیں؟

مگر درحقیقت زندگی کے ہر شعبے میں کھلی ذہنیت کا مظاہرہ کرنے والے افراد ہی ذہین شمار کیے جاتے ہیں،ایسے افراد نہ صرف نئے تصورات میں حد سے زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں، بلکہ اپنے پرانے فرسودہ خیالات کو تبدیل کرکے دوسروں کے صحیح آئیڈیاز کو قبول کرنے میں بلکل نہیں ہچکچاتے، نفسیات دان بھی اس رائے سے متفق ہیں کہ اسمارٹ لوگ لاجک پر مبنی زمینی حقائق کو با آسانی تسلیم کرکے ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تنہائی پسند

ایک برطانوی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی نفسیاتی تحقیق کے مطابق غیر معمولی ذہین افراد زیادہ لوگوں میں گھرے رہنے کے بجائے تنہا رہنا پسند کرتے ہیں،ایسا نہیں کہ وہ بلکل ہی آدم بیزار ہوں اور دوست واحباب سے کٹ کر جینا پسند کرتے ہیں۔

نارمل افراد کی طرح ان کی بھی سوشل لائف، دوستوں کا وسیع حلقہ ہوتا ہے، مگر اکثر اوقات وہ تقریبات میں شرکت سے صرف اس لیے گریز کرتے ہیں کہ ان کا موڈ نہیں ہوتا، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر معمولی ذہانت کے حامل افراد حد درجے کے موڈی ہوتے ہیں۔

خود پر قابو رکھنا

اسمارٹ لوگوں کی ایک اور بڑی خصوصیت جو انھیں دیگر افراد سے ممتاز کرتی ہے، وہ ان کا ‘سیلف کنٹرول’ ہے، چاہے کام کے شدید دباؤ کے باعث تھکن ہو یا کسی کی جانب سے ان کے کام میں مداخلت و مزاحمت کی گئی ہو، وہ ہر طرح کی صورتحال میں خود پر پوری طرح قابو رکھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بسا اوقات عام افراد جن باتوں پر آپے سے باہر ہوجاتے ہیں یا پھر صورتحال سے فرار کا راستہ ڈھونڈتے ہیں،غیر معمولی ذہین افراد پوری یکسوئی اور ٹھنڈے مزاج کے ساتھ ان حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔

برطانوی جریدے میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق سیلف کنٹرول اور ذہانت دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے، انسانی دماغ کا ایک مخصوص حصہ جسے ‘پری فرنٹل کورٹیکس’ کہا جاتا ہے،ان عوامل کو کنٹرول کرتا ہے جس سے انسان اپنی ترجیہات وحدود اور زندگی گزارنے کے اصول متعین کرتا ہے، اور ذہین افراد کسی بھی صورت ان پر سمجھوتا نہیں کرتے۔

حِس مزاح

انسانی زندگی اور تفریح کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے،سائنسدان اس امر پر متفق ہیں کہ اگر زندگی سے مزاح یا تفریح نکال دی جائے تو پھر انسان اور روبوٹ میں کوئی فرق نہیں رہے گا، غیر معمولی ذہین افراد جہاں اور بہت سی باتوں میں دوسروں سے مختلف ہوتے ہیں، وہیں ان کی تیز اور بر جستہ حس مزاح بھی انھیں عام افراد سے ممتاز کرتی ہے، لیکن یہ مزاح کبھی بھی حد سے بڑھ کر نہیں ہوتا، نہ ہی کسی کی دل آزاری کا سبب نہیں بنتا۔ اس حوالے سے متعدد معروف کامیڈینز پر تحقیق کی گئی اور یہ بات سامنے آئی کہ تیز حس مزاح کے پیچھے دراصل ان کی غیر معمولی ذہانت کار فرما تھی۔

دوسروں کا خیال رکھنا

وہ لوگ جو روز مرہ کے معمولات میں اپنے پیاروں اور دوست و احباب کے علاوہ عام افراد کے جذبات و احساسات کا بھی بھرپور خیال رکھتے ہوئے یہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ دوسروں کے لیے کارآمد ثابت ہو سکیں، اور کسی کی معمولی سی بھی دل آزاری کا سبب نہ بنیں،انسانی جذبات کو صحیح کسوٹی پر پرکھنے کی صلاحیت رکھنے والے ایسے افراد ‘ایموشنلی انٹیلی جنٹ ‘ کہلاتے ہیں، یہ لوگ نئے جگہوں پر جانا اور نئے لوگوں میں گھلنا ملنا پسند کرتے ہیں، اور سیاحت و نفسیات کے دلدادہ ہوتے ہیں۔

چیزوں کو مختلف زاویے سے دیکھنا

غیر معمولی ذہین افراد کی ایک اور بڑی خوبی ان کا گہرا اور سب سے مختلف وجدان یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو دیکھنے اور ایسے قدرتی مظاہر کو کھوجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو عام افراد کی نظروں سے یکسر پوشیدہ ہوں،وہ عموما نئے اور اچھوتے تصورات میں دماغ کھپانا پسند کرتے ہیں، معروف صحافی چارلس ڈوہگ کی ڈزنی فلمز پر تحقیق کے مطابق ‘فروزن’ سمیت جن موویز نے ریکارڈ توڑ مقبولیت حاصل کی وہ ایسے ذہین افراد کی تخلیق ہیں جو پرانے آئیڈیاز کو نئے انداز میں پیش کرنے کا ہنر جانتے تھے۔

کاموں میں التوا کرنا

یہ بھی پڑھیں: ذہین افراد کی یہ نشانی آپ میں ہے؟

اگرچہ اس حوالے سے متعدد افراد نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، مگر بہت سی تحقیقات کا نچوڑ یہ بتاتا ہے کہ ایسے افراد جو کاموں کو التوا میں ڈال دیتے ہیں وہ غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں،البتہ جو لوگ اپنی فطری کاہلی یا سستی کے باعث آج کا کام کل پر چھوڑ تے ہیں وہ ایسے لوگوں میں شمار نہیں کیے جاسکتے، جنہیں ذہین مانا جاتا ہے۔ لیکن ماہرین کے کچھ لوگ اپنے کاموں کو اس امید پر ملتوی کرتے رہتے ہیں کہ شاید کل صبح تک یا 2 چار دن تک کوئی نیا آئیڈیا ذہن میں آئے اور مذکورہ کام کو زیادہ اچھے طریقے سے پای تکمیل تک پہنچایا جاسکے، یقینا ایسے افراد کا شمار غیر معمولی ذہانت رکھنے والے افراد میں کیا جاتا ہے، اور تحقیق سے مشاہدہ کیا گیا کہ ان کا التوا کبھی بھی ضائع نہیں جاتا، ان کی’مائنڈ فیکٹری ‘ کوئی نہ کوئی نیا اچھوتا آئیڈیا ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔

کائنات کے راز جاننے کے لیے فکرمند رہنا

آخری نمبر پر ایک ایسی خصوصیت رکھی گئی ہے جس کو پڑھ کر یقینا بہت سے افراد حیرت زد رہ جائیں گے، جی ہاں، ایسے لوگ جو علم فلکیات، کونیات یا کائنات کے بارے میں حد سے زیادہ متجسس ہوں اور ان کی حقیقت کو جاننے کے لیے مستقل سرگرداں رہیں،بلاشبہ غیر معمولی ذہین افراد میں شمار کیے جاتے ہیں۔

درحقیقت یہ ان کا حد سے بڑھا ہوا تجسس اور دوسروں سے مختلف وجدان ہوتا ہے، جو انہیں نہ صرف اپنے ماحول، کائنات اور قدرتی عوامل کی معلومات پر اکساتا ہے، بلکہ وہ اپنے تجسس کی تسکین کے لیے کسی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے،بلاشبہ علم فلکیات ایسے ہی غیرمعمولی ذہین افراد کا انسانیت کے نام ایک تحفہ ہے۔


یہ مضمون صادقہ خان نے تحریر کیا ہے جو بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں اور اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ سائنس اور سائنس فکشن ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ Source

Advertisements

Prime Minister Imran Khan visits GHQ for security briefing

 August 30, 2018

Prime Minister Imran Khan visited the General Headquarters, Rawalpindi on Thursday morning for a security briefing, the army’s media wing, Inter-Services Public Relations (ISPR), said in a tweet.

“Prime Minister Imran Khan arrived to visit GHQ. Received on arrival by COAS [Chief of Army Staff Gen Qamar Javed Bajwa]. PM being briefed on defence, internal security and other professional matters,” the ISPR said.

“Ministers of Defence, Foreign Affairs, Finance, Information and Minister of State for Interior are accompanying the PM,” it added.

Upon arrival, a guard of honour was given to PM Khan, who then laid a floral wreath at the at the Yadgar-i-Shuhada (Monument to Martyrs).

The PM and his ministers, the ISPR said, were given “detailed briefings on the security environment, threat spectrum and response, the Army’s campaign against terrorism, Operation Radd-ul-Fasaad, Karachi situation as well as the Khushal Balochistan program”.

Information Minister Fawad Chaudhry said that PM Imran Khan and the ministers spent nearly eight hours at the GHQ.

The minister added that during the meeting Gen Bajwa said, “There is perception army interferes in the civilian affairs, but please be rest assured, the army will function like any other government institution”.

PM Khan, according to the ISPR, “greatly appreciated the professionalism, operational readiness, and contributions and sacrifices of Pakistan Army in the war against terrorism”. ‬

“Pakistan is facing external and internal challenges but with the support of the nation and through a cohesive national approach, we shall successfully overcome these,” the prime minister was quoted as saying.

Moreover, PM Khan also reportedly assured General Bajwa that his government shall provide all resources required to maintain the capability and capacity of the armed forces.

The COAS thanked the PM for his visit and his confidence in the Army, and assured him that the armed forces shall, God willing, “continue to deliver on nation’s expectations of defending the motherland at all costs and sacrifices”.

The Thursday meeting follows PM Khan and Gen Bajwa’s first-ever official interaction as chief executive and army chief on Monday this week at the Prime Minister’s Office.

A statement following their meeting had stated that the two had pledged to work closely for establishmentpeace in the country and the region.

They “expressed resolve to bring enduring peace and stability in the country while also continuing efforts for regional peace”, the Prime Minister Office had said in a statement.

Although the Monday meeting was supposed to be a courtesy call, the focus of discussion, it is said, had quickly shifted to security in the country and the neighbourhood. Source

Sipahi Maqbool Hussain Died

one of the greatest war stories in Pakistan’s history, one that is based on bravery, courage, and resilience. This is Sipahi Maqbool Hussain’s story.

Maqbool Hussain was a sepoy for the Pakistan Army who took part in the 1965 War against India. In 1965, Sipahi Maqbool Hussain was taken as a prisoner by the Indian forces, but he was never given the status of a Prisoner of War, which provides him with certain rights and benefits. He vanished and was declared missing on August 20, 1965.

The Indians thought they could break down Sipahi Maqbool Hussain and take information from him. They tried everything in their power, all sorts of mental and physical torture, but they could never break Maqbool Hussain’s resilience. The torture grew to such an extent that they cut off Sipahi Maqbool’s tongue, taking away his power to speak forever.

After spending 40 years in Indian jails, Sipahi Maqbool Hussain was released in 2005, at the Wagha border prisoner exchange. Maqbool was given as civilian prisoner status, not the status of a Prisoner of War. The man spent 40 years in Indian jails, subject to inhumane torture and negate but he never said a word against his country, Pakistan. It is said that Maqbool Hussain, whenever he bled, wrote “Pakistan Zindabad!” on the walls with his blood.

When Sipahi Maqbool Hussain was released, he had already lost his senses due to the brutal torture he had faced at the hands of the Indians for 40 years. When he was questioned about his identity, he kept replying by writing: “No. 335139”, which was his Army bearing number.

The Inter-Services Public Relations (ISPR) even co-produced a drama on Sipahi Maqbool Hussain’s heartwrenching but patriotic story, directed by Haider Imam Rizvi. According to different sources, allegedly, it is being learnt that Sipahi Maqbool Hussain is still alive and lives in CMH Rawalpindi, under Pakistan Army’s supervision.

A story with such vigor, valor, and sacrifice is still unknown to many. People don’t know about Sipahi Maqbool Hussain’s 40 years in Indian prisons, they don’t know about the mental and physical torture he bore, just for Pakistan. On the other hand, there is an Indian spy who was caught and was quick to throw-up all the details about his mission and agency.

ایوا زوبیک پاکستان میں کیا کر رہی ہیں؟

عمر دراز ننگیانہ

پاکستان میں اس برس جشنِ آزادی کے موقعے پر پاکستانی پرچم اوڑهے پولینڈ کی شہری ایوا زوبیک پاکستانی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہیں۔

اس کی وجہ ان کی وہ ویڈیو بنی جس میں وہ جشنِ آزادی کے موقعے پر بظاہر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ایک طیارے میں کیکی چیلنج کرتی نظر آئیں۔

اس پر قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے نوٹس لیتے ہوئے پی آئی اے حکام سے وضاحت طلب کی کہ ایک غیر ملکی خاتون کو طیارے تک رسائی کیسے حاصل ہوئی؟

اس ویڈیو پر یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ اس میں پاکستانی پرچم کی بےحرمتی ہوئی ہے۔

تاہم ایوا کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انھوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد پاکستان میں سیاحت کا فروغ تھا اور کچھ نہیں اور ان کے پاس تمام تر اجازت نامے موجود تھے۔ اس کے بعد کہیں جا کر معاملہ رفع دفع ہوا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

پی آئی اے، کیکی چیلنج اور نیب

KiKiChallenge# یہ ’کیکی چیلنج‘ کیا ہے؟

بی بی سی کے ساتھ حالیہ ایک گفتگو میں ایوا نے بتایا کہ وہ جہاز تو اصلی تھا ہی نہیں۔ مگر پہلے یہ تو معلوم ہو کہ وہ خود ہیں کون اور پاکستان میں کر کیا رہی ہیں؟

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور امن و امان کی خراب صورت حال خراب ہونے کے باعث گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں واضح کمی ہوئی ہے۔

ایوا اس بات کو مانتی ہیں: ’یہاں آنے سے پہلے میں نے بھی پاکستان کے بارے میں جو سن رکھا تھا وہ زیادہ اچھا نہیں تھا۔‘

ایوا زوبیک
Image captionایوا پہاڑی علاقوں سے خاص طور پر متاثر نظر آتی ہیں

ایوا کا آبائی ملک پولینڈ ہے جبکہ وہ برطانیہ میں ایک لمبے عرصے تک مقیم رہی ہیں جہاں کی آکسفرڈ یونیورسٹی سے انھوں نے فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں بی اے کی ڈگری لے رکھی ہے۔ گذشتہ چار برس تک وہ برطانیہ ہی میں کلچر ٹرپ نامی ایک کمپنی میں کام کرتی تھیں۔

یہ کمپنی سیرو تفریح کے مواقع کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ ایوا کے مطابق اس کی ویب سائٹ پر پہلے ایک برس کے دوران ہی موجود ویڈیوز کو ایک کروڑ مرتبہ دیکھا جا چکا تھا جبکہ اس کو سوشل میڈیا پر نظر رکھنے والوں کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ تھی۔

اس کمپنی میں کام کرنے والی پہلی اہلکار ہونے سے قبل ایوا بیلجیئم کے شہر برسلز میں واقع یورپین پارلیمان میں بھی کام کر چکی ہیں۔ اس طرح وہ انگریزی اور پولش کے علاوہ اطالوی بھی بول سکتی ہیں۔

وہ پاکستان کب اور کیسے پہنچیں؟

ایوا نے اس برس کے آغاز میں سب کام وام چھوڑ چھاڑ بستر باندھا اور لندن چھوڑ دنیا کی سیر پر نکل پڑیں۔ وە اب تک چالیس سے زائد ممالک میں گھوم چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں زیادە تر ایسی جگہوں کا انتخاب کرتی ہوں جو خوبصورت مگر نظروں سے بظاہر اوجھل ہوں اور زیادە لوگ اس طرف نہ جاتے ہوں۔‘

سب سے پہلے انھوں نے اپنے آبائی ملک پولینڈ کو نئے سرے سے دریافت کیا۔ پولینڈ کے سیاحتی بورڈ کے ساتھ اشتراک میں انھوں نے سیاحت کے فروغ کے لیے مہم چلائی۔

ایوا ایک وی لاگر ہیں یعنی وہ تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے ان مقامات کی کہانیاں سناتی ہیں جہاں وہ سیاحت کے لیے جاتی ہیں۔ اپنے وی لاگ کو وہ سوشل میڈیا خصوصا انسٹا گرام، فیس بک اور یو ٹیوب کے ذریعے ان کو فالو کرنے والے ہزاروں افراد تک پہنچاتی ہیں۔

صرف انسٹا گرام پر ان کے فالو کرنے والوں کی تعداد 70 ہزار سے زائد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے 30 ہزار انھیں پاکستان آنے کے بعد ملے ہیں۔

ایوا پہاڑوں سے خاص طور پر متاثر نظر آتی ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پولینڈ کے بعد سیدھا نیپال کا رخ کیا اور ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک جا پہنچیں۔

وہاں سے اس برس اپریل میں وہ پہلی دفعہ اپنے سکول کی زمانے کی دوست کے کہنے پر پاکستان آئیں۔

ایوا زوبیک
Image captionایوا سیاحت کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کرتی ہوں جو خوبصورت مگر نظروں سے بظاہر اوجھل ہوں، اور جہاں زیادہ لوگ نہیں جاتے

’یہاں آ کر مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان اس کے بالکل برعکس ہے جو مغربی ذرائع ابلاغ میں ہمیں دکھایا جاتا ہے۔‘

پاکستان آنے سے قبل ان کا تصور یہ تھا کہ یہاں سیاحوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ’ویسے بھی یہاں دیکھنے کو کیا ہے، سوائے صحرا کے۔‘

مگر ان کی دوست نے انہیں تصویریں بھیجیں اور اصرار کیا کہ وہ پاکستان ضرور آئیں۔ ’وە خود کافی برس یہاں رە چکی تھی۔ ھر میں نے خود بھی تحقیق کی تو مجھے اشتیاق ہونا شروع ہوا۔‘

یہاں پہنچ کر وە سب سے پہلے وادئ ہنزە گئیں۔ ’آپ میری حیرت کا اندازە نہیں کر سکتے۔ میں پاکستان سے محبت میں گرفتار ہو گئی۔‘

تاہم دو ہفتے قیام کے بعد وہ آگے بڑھ گئیں۔ انھوں نے چین، ویتنام اور انڈیا کا سفر کیا۔ جون کے آخر میں تاہم وہ دوبارہ پاکستان واپس آ گئیں اور تب سے یہیں موجود ہیں اور پاکستان کے حوالے سے ان کے وی لاگ کافی مشہور ہو رہے ہیں۔

ایوا دوبارہ واپس کیوں آئیں؟

ایوا کے مطابق ان کی پاکستان واپسی کی وجہ پاکستان میں سیاحت کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پایا جانے والا وہ منفی تاثر ہے جس کو بدلنے میں وہ اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔

’میں نے جتنے ملک گھومے ہیں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان ان میں سب سے زیادہ توجہ کا حقدار ہے کیونکہ یہ وہ ملک ہے جہاں سیاحت کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں مگر اس کے بارے میں غلط فہمیاں کافی زیادہ ہیں۔‘

وە لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں جا چکی ہیں۔ اور وہاں سے وی لاگ کر چکی ہیں اور چند ابھی منظرعام پر آنا باقی ہیں۔

کی کیتصویر کے کاپی رائٹPIA
Image captionجشن آزادی پر کیا جانے والا کیکی چیلنج بھی پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے سلسلے کی ایک کڑی تھا

ایوا کا کہنا ہے کہ کسی سے مالی امداد حاصل نہیں کرتیں اور اب تک وہ اپنا تمام کام خود کر رہی ہیں۔ تاہم مستقبل میں وہ اپنی ٹیم قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ایوا سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے پہاڑی سلسلوں میں کوە پیمائی، مہم جوئی اور پہاڑی علاقوں کی سیاحت کے مواقع موجود ہیں۔

’یہ سب کچھ پہلے ہی سے پاکستان میں موجود ہے مگر شاید غیر ملکی سیاحوں کے لیے اس کی صحیح طریقے سے تشہیر نہیں کی جاتی یا پھر وہی پاکستان کا منفی تاثر آڑے آ جاتا ہے کہ یہ بین الاقوامی سیاحوں کے لیے محفوظ نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی سلسلوں کی سیاحت کو فروغ دینے سے آغاز کرنے کے بعد مہم کو پاکستان کے دوسرے شہروں اور علاقوں تک پھیلایا جا سکتا ہے۔

’ذاتی طور پر مجھے یہاں کے کھانے، ثقافت اور لوگ بے حد پسند آئے ہیں۔ جس طرح مجھے یہاں خوش آمدید کہا گیا مجھے اس پر بہت خوشی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے ان کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر بہت لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور پاکستان آنے کے حوالے سے معلومات لی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے کام اے پہلے ہی مثبت نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔

وہ اس کام کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں وہ مقامی شخصیات یا اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

جشن آزادی پر کیا جانے والا کیکی چیلنج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ ’اگر آپ غور سے دیکھیں تو وہ ایک ایسا جہاز اور اس کا وہ حصہ تھا جو ٹریننگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ ہم نے سوچا کیکی چیلنج ان دنوں مقبول ہے اس سے ایک منفرد انداز میں لوگوں کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس ویڈیو نے ان کی توقعات سے کہیں زیادہ پذیرائی حاصل کی۔ ’میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کتنے زیادہ محبت اور لوگون کے پیار بھرے پیغامات موصول ہوئے۔‘

The Endgame for Trump Comes Into View

By 

Most weeks, New York Magazine writer-at-large Frank Rich speaks with contributor Alex Carp about the biggest stories in politics and culture. Today, the fallout for Trump from Michael Cohen’s guilty plea and Paul Manafort’s conviction on multiple felonies.

When you looked back on Watergate last summer, you found that the scandal unraveled incredibly slowly until, in August 1974, Nixon’s presidency collapsed all at once. This week, Donald Trump’s former campaign chairman Paul Manafort was convicted on multiple counts of fraud and Michael Cohen, his personal lawyer and fixer, pleaded guilty to campaign finance violations he says he committed “at the direction of the candidate.” Have we reached the August 1974 of the Trump presidency?

There have been so many times when Trump was doomed, dating at least as far back as his denigration of John McCain’s war heroism three summers ago, that it would be foolish to declare any new horror the final blow. But I do believe, as I wrote last summer, that Trump’s path to “a premature exit from the White House in disgrace” is “on a comparable timeline” to Nixon’s. The tumult of August 2018 hasn’t finished off his presidency, but the endgame looks closer by the day. We  know we’ve reached a nadir when the president’s lawyer is reduced to claiming that “truth isn’t truth” and even a lowlife crook like Michael Cohen can take the moral high road by professing he’d rather go to prison than be “dirtied” by a Trump pardon.

It is important to remember that the unrelenting lockstep loyalty of the feckless GOP leadership and the party’s base to Trump are not indicators of his fate. An occasional outlier in the Jeff Flake vein aside, Nixon’s party was wholly loyal to him too. Like today’s Vichy Republicans, they remained loyal despite the indictments of Cabinet members and aides as close to Nixon as Manafort, Cohen, and Michael Flynn have been to Trump. They remained loyal after the nation was riveted by the devastating Watergate hearings of the summer of 1973, which portrayed all the president’s men as counterparts to the mobsters seen in the previous year’s Hollywood hit The Godfather. They remained loyal even that fall, when Nixon’s firing of the special prosecutor in the “Saturday Night Massacre” attempted to blowtorch the Constitution and the rule of law.

As a counsel to the House Judiciary Committee during the 1974 impeachment inquiry pointed out in a Times op-ed piece ten days ago, Nixon’s defenders routinely dismissed Watergate investigations as a political “witch hunt” intended to reverse the Democrats’ 1972 electoral defeat. As late as the end of July 1974 — less than two weeks before Nixon’s August 9 helicopter departure from the White House lawn — most Republicans on the House Judiciary Committee voted against all articles of impeachment. Many Republicans on the committee continued to support him even after the August 5 release of the “smoking gun” tape revealing that Nixon had ordered a cover up of the Watergate crimes. Had the Democrats not controlled both houses of Congress — and had the era’s Nixon-sympathizing conservative Southern Democrats not finally turned on him — Nixon might have held on until a few months more, until November 1974. But no longer than that. The Democrats gained 49 additional House seats and four Senate seats in the midterms. His doom was assured.

With all the debate about whether Trump could or should be impeached this very minute — a wholly theoretical debate as long as the GOP controls Congress — we tend to forget that Nixon was never tried for impeachment. He quit once he realized he didn’t have the votes to survive such a trial and when he no doubt realized that he was in criminal jeopardy. (A fear that would only be alleviated when his successor, Gerald Ford, granted him a pardon.) Trump, unlike Nixon, is out of touch with reality. He doesn’t know how to count votes, and he believes he can defy the law with impunity. (Nixon, a lawyer, could only lie to himself about his criminal exposure up to a point.) But, whether Trump recognizes it or not, the fact remains that his main and perhaps only hope for clinging to office is that Republicans hold the House in November. Polls — and the history of midterm elections inflicting damage against the party occupying the White House even during non-criminal presidencies — tell us that a blue wave is more likely.

What would happen then could be any combination of developments including impeachment. Nonstop congressional investigations will attempt to illuminate every dark corner of an administration in which the kleptocracy extends from the Trump family to most Cabinet departments. Those close to Trump, both in his family and in his immediate circle, will fear for their futures, both legally and financially. The GOP and the Trump Organization alike will be on the ropes, and in full panic. This is evident from the wrongdoing already apparent — indeed, already the subject of indictments and guilty pleas. Yet to be factored in, of course, are the unknown findings of the Robert Mueller investigation, which could include not only treasonous conspiracies with the Russians to steal an election but additional crimes that beggar the imagination.

If there is a shocking upset GOP victory in November, then all bets are off: America is in worse trouble than we already think and possibly in an existential fight for survival.

But the more plausible scenario is that Trump, even if he has to be pushed kicking-and-screaming by Ivanka and the possible jailbirds Donald Jr. and Jared, gets out of Dodge. As with Nixon, his administration is most likely not to end with impeachment but with a self-pitying and self-justifying resignation in which Trump lashes out against both Republicans and Democrats, declares another ersatz “win,” and flees.

Up until the ship of state hits the iceberg, the Vichy Republicans will not hit the lifeboats. Trump’s loyal supporters will remain loyal even then, still chanting, as they did during the president’s West VIrginia rally this week, “Lock her up!” and “Drain the swamp!” (Polls found that a quarter of the country still supported Nixon even when he resigned.) The exact timing remains unknown, and a little more perseverance and patience in the face of the torrent of Trump indignities will be required. But when this White House collapses, it will happen fast. As the Washington reporter Elizabeth Drew, who covered Watergate for The New Yorker, would conclude, “In retrospect, the denouement appeared inevitable, but it certainly didn’t feel like that at the time.” Source

General (R) Amjad Shoaib Clarifies and Asks for Pardon

General (R) Amjad Shoaib clarifies his previous statement regarding the involvement of diaspora Balties in the issues of terrorist activities provoked by India in Gilgit-Baltistan.

Today, he stated that as he did previously as well that the People of Gilgit-Baltistan are educated, political aware and patriotic Pakistanis. However, a few of those who are living abroad are being misled by foreign enemy agencies to disrupt the progress on CPEC. He, further stated that although his intention was or he does not mean to label the whole community as agents of India, if it has been taken as such and if it has hurt the sentiments of any citizen he apologies for it.

Gilgit-Baltistan Times, considers this statement of General (R) Amjad Shoaib as a decent and mature act by him. At the same time we salute to the educated and decent protest of the citizens of Gilgit-Baltistan through social media which has compelled the respective TV Channel and Amjad to come up to clarify his view point.

Imran Khan, PM of Pakistan, First Speech, Impressive and Hopeful

Imran Khan, PM of Pakistan has delivered his First Speech to the nation which was highly impressive and filled with hope of brighter future of the common people of Pakistan.