وادی داریل کا ایک آزاد الیکشن سروے

BY:Samar KhanSamar Khan

گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع دیامیر میں بھی الیکشن مہم زوروں پر ھے… میں اپنی وادی داریل کا ایک آزاد سروے کرنا چاہتا ھوں… وادی سے تعلق رکھنے والے لوگ اختلاف راۓ کا حق رکھتے ہیں کیونکہ میری بات پتھر کی لکیر نہیں ھے…

چار بڑی قومی پارٹیوں کے ٹکٹ ھولڈر اس وقت میدان میں ہیں… JUI,PTI,PMLN,PPP نے اس بار اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں… PPP کو چھوڑ کر باقی تین پارٹیوں کے بیچ اس وقت کانٹے کی ٹکر جاری ھے…. ایسی بات نہیں کہ پی پی پی کا کنڈیڈیٹ زور نہیں لگارہا مگر اس کی جھولی میں امسال اتنے زیادہ ووٹ پڑتے نہیں دکھتے کہ اسے بھی مقابلے کی صف میں لا کھڑا کیا جاسکے… اپنی طرف سے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ھے، لیکن اس کی دوڑ فی الحال منیکال یونین تک ہی محدود ھے….صرف منیکال یونین سے اس کی جھولی بھرنے والی نہیں ھے… آگے پیچھے بھی ہاتھ پاؤں مارنے ھونگے اگر مقابلے میں بنا رہنا چاہتا ھے تو…..

اس کے علاوہ باقی تین پارٹیوں کا اثر رسوخ پوری وادی میں پھیلا ھوا ھے… یہ الگ بات کہ وادی میں ووٹ پارٹی بنیاد پر کم، شخصی بنیاد پر زیادہ پڑتا ھے…. بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو وفاق میں کسی اور پارٹی کی حکومت چاہتے ہیں مگر ادھر ووٹ کسی اور پارٹی کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں… مطلب صاف ظاہر ھے شخصیت پہلے پارٹی بعد میں..

ان تین پارٹی کے امیدوار اپنی اپنی بھرپور کوششوں میں مگن ہیں… ان دنوں ڈھنگ سے کھانے کی فرصت ھے نہ سونے کی… سر کھجانے کی فرصت نہیں تو کھانا سونا کیسے نصیب ھوگا….. جوں جوں 8 جون کا فاصلہ گھٹتا جارہا ھے پروپیگنڈا بڑھتا جارہا ھے… کارکن جھوٹ کا دریا کب کا بہا چکے اب سمندر بہا رھے ہیں… آٹھ جون آتے آتے بہت سے لوگ اپنا ایمان گنوا چکے ھونگے….

ہر پارٹی خود کو فاتح سمجھ رہی ھے… مگر ایسا نہیں ھے. جیت تو خیر ایک پارٹی کی ھو گی ہی… مگر جس آسانی سے دن کی روشنی میں راہ چلتے ھوۓ کارکن جو سپنے دیکھتے ہیں وہ غلط ھیں…..

میری آزاد راۓ کے مطابق اب تک کوئ بھی پارٹی بھاری سبقت نہیں دیکھا پائ… گراف اوپر نیچے ھو کر واپس برابری کی سطح پر آکر جم جاتا ھے…. ماضی اور حال کی سیاست میں ایک واضح فرق دیکھائ دے رہا ھے…. پہلے خاندان کا خاندان ایک امیدوار کا ساتھ دیتا تھا، اب خاندان رہا ایک طرف، گھر گھر میں تضاد ھے… باپ ایک طرف، بیٹا ایک طرف، بھائ بھائ کا ووٹ الگ الگ….. ایک گھر، چار پارٹیاں، چار ووٹ….. ایسے میں اندازہ لگا پانا مشکل ھے….. جمہوریت شاید دھیرے دھیرے اپنا جلوہ دیکھا رہی ھے… یہی تو جمہوریت کا حسن ھے……

خیر جو بھی ھے بس آٹھ جون بخیریت گزر جاۓ، ہار جیت تو کھیل کا حصہ ھے….جو جیتے اس کا فرض بنتا ھے ذات پات، اپنے پرایے کے خول سے باہر نکل کر وادی کی تعمیر و ترقی کو اپنا نصب العین بناۓ اور جو ہاریں وہ بھی اپنا اپنا کردار ادا کریں…..

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے..

تین ہار جائیں گے ایک کی جیت ھوگی… اب کون مقدر کا سکندر اور اقتدار کے سنگھاسن پر متمکن ھوگا، فردا کے پردے میں چھپا ھے… میری نیک تمنائیں آپ چار حاجیوں کے ساتھ ہیں… لگے رھو میدان صاف ھے، قسمت کا فیصلہ عوام کریگی…

*BEST OF LUCK*

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: