ضلع دیامر میں تعصب اور ذات پرستی کی ایک جھلک

بلاشبہ ضلع دیامر پاکستان کے135 ضلعوں میں سب سے پسماندہ ضلع ہے۔اس ضلعے کی پسماندگی کے علل میں دیگر عوامل کے ساتھ یہاں کی سیاسی لیڈر شب کا حد درجہ تعصب پر مبنی رویہ ہے۔گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلع سے زیادہ عصبیت ضلع دیامر میں پائی جاتی ہے بلکہ پالی جاتی ہے۔ضلع دیامر وہ واحد ضلع ہے جہاں سو فیصداہل سنت دیوبندی مکتبہ فکر کے لوگ بستے ہیں۔مگر انتہائی المناک بات یہ ہے کہ یہاں کے حفاظ و علمائ، یہاں کے تبلیغی و مجاہد، یہاں کے سیاسی لیڈر، سماجی ورکر، سرکاری ملازم،مزدور، جدید تعلیم یافتہ حضرات، اور عوام یہاں تک کہ خواتین بھی غالی درجے کے تعصب میں مبتلا ہیں۔اس عصبیت نے ضلع دیامر کے تمام طبقوں کا امیج بری طرح برباد

کررکھا ہے۔یہاں کی برادیوں کے تعصب سے گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔

جب برادریوں کے تعصب کی بات آتی ہے تودیامر کے لوگ مذہب و مسلک اور اسلام تک کو پاؤں تلے روندھتے ہیں۔اور وہاں جاگرتے ہیں جہاں صرف اور صرف گندا کیچڑ ہوتا ہے۔

اسی برادری تعصب(شین یشکن)کی وجہ سے کئی کئی خاندانیں صفحہء ہستی سے مٹ گئی ہیں۔ کئی دشمنیاں برادری تعصب کی وجہ سے سالوں چلتی رہیں۔جس میں سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئی۔لوگ اپنی عزت اور حیاء تک کی قربانی دیتے ہیں مگربرادری تعصب کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔دیامر کی برادریوں نے جو علماء پیدا کیے ہیں بدقسمتی سے ان میں بھی یہ بیماری بوجوہ تمام موجود ہے۔اگر سچ کہوں تو کئی جید علماء تعصب و عصبیت کے سرغنہ ہیں۔افسوس اس بات پر ہے کہ یہ حضرات تو امام اور رہنماء تھے مگر انہوں نے تقویٰ و پرہیز گاری کی بجائے تعصب بالخصوص شین یشکن کی تعصب سے اپنا وقار کھودیا اور اوج ثریا سے قعر مذلت میں گرتے جارہے ہیں۔

یا اسفا علی ذالک

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: