When Dooms Day Shocked Darel Valley

samar KhanBy: Samar Khan

دو اگست 2003 کی وہ خون آشام رات مجھ ٹھیک گیارہ سال بعد آج بھی نہیں بھولی… نہ صرف میں بلکہ میرا پورا گاؤں اس بھیانک رات کی بھیانک یادیں تاحال بھلا نہ سکا…. یہ شب اہلیان گیال داریل پر قیامت صغری بن کر ٹوٹی تھی….. ہم نے کبھی تین جنازے ایک ساتھ نہیں دیکھے تھے اور اس رات ھمارے پچاس عزیز ایک ساتھ چل بسے تھے….

ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک مقامی ٹھیکدار کے گھر اچانک آگ بھڑک اٹھی، آگ کیسے لگی؟ یہ راز، راز ہی رہا….. گاؤں والے آگ بجھانے جاۓ وقوعہ پہنچ گۓ ابھی انہوں نے کام شروع کیا ہی تھا کہ ایک زوردار دھماکا ھوا…. اس کے گھر میں زیر تعمیر چینل کا بلاسٹنگ مواد ذخیرہ تھا…. آگ وہاں تک پہنچ گئ اور دھماکا ہوا…. دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز پوری داریل ویلی میںسنیگئ….. اور جس جس گھر میں سنی گئ، مکینوں کو ایک پل کے لیے لگا کہ ان کا گھر نشانہ بنایا گیا ھے…..

خیر میں جب وہاں پہنچا تو منظر بہت بھیانک تھا، جگہ جگہ لاشیں بکھری پڑی تھیں، جو گھائل ھوگۓ تھے ان کی درد میں ڈوبی چیخیں سنائ دے رہی تھیں…. لوگ اپنے پیاروں کو دیوانہ وار ڈھونڈ رھے تھے…. میں نے سب سے پہلے اپنے جگری دوست عبدالحناس کو دیکھا، جو ایک نالی میں پڑا آخری سانسیں لے رہا تھا…. اس وقت میری آنکھوں سے بے اختیار اشکوں کا سیلاب امڈ آیا…… میں زندگی میں پہلی بار پھوٹ پھوٹ کر رویا…..

پوری وادی میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئ اور لوگ جوق در جوق گیال کی طرف آنا شروع ھوگۓ….. 3 اگست لاشیں دفناتے دفناتے گزر گیا…. میں نے سنا تھا کہ غم جب حد سے گزر جاتا ھے تو احساس جاتا رہتا ھے… دل پتھر بن جاتا ھے… پہلی بار اس بات کا مشاہدہ کیا….. کیونکہ رات کو جو چیخیں، آہیں اور سسکیاں سنائ دے رہی تھیں وہ دن کے اجالے میں کہیں کھو گیئں…لوگوں کی آنکھیں گویا پتھرا گئ تھیں، ان کے آنسو خشک ھو گۓ تھے، دل فولاد بن گۓ تھے اور کوئ چاہ کر بھی رو نہیں پا رہا تھا……..

زیر نظر تصویر جناب عبدالخالق مرجوم کی ھے، جو اس دھماکے کی بھینٹ چڑھ گۓ… مرحوم، حاجی رحمت خالق ممبر جی بی اسمبلی اور جناب حبیب الرحمن صاحب سٹی مجیسٹریٹ گلگت کے بڑے بھائ تھے…. انہوں نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی مگر عملی زندگی کا آغاز بحثیت مدرس کیا…. مڈل سکول گیال کے ھیڈماسٹر رھے… ایک بہترین میر کارواں کی تمام تر صفات پائ جاتی تھیں…. ایک حلیم الطبع، فیاض، ہنس مکھ، ملنسار اور غمگسار انسان تھے….. ان کیساتھ جو ڈیڑھ سال کا عرصہ سکول میں گزرا، وہ میری زندگی کا انمول دورانیہ رہا….. میں ان سے جڑی ایک ایک بات ایک ایک یاد کو کبھی بھی فراموش نہیں کر پاؤنگا…. آج ان کی برسی ھے، اللہ تعالی ان پچاس لوگوں کو جنت الفردوس میں اعلی مقام دے. آمین.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: