Italian Mountaineers Cheated a Prolific Mountainer from Hunza

وادی ہُنزہ میں شاہراہ قراقرم پر پہاڑوں کے بیچ حسن آباد نامی ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ کسی زمانے میں یہاں اپنے دور کا ایک بڑا کوہ پیما رہتا تھا۔ نام ان کا امیر مہدی تھا۔ اور کام اُن کا: بھاری بھرکم سامان اُٹھائے اونچے اونچے پہاڑوں پر چڑھنا۔

امیر مہدی تھے تو پہاڑوں کے قُلی لیکن انہیں کےٹو کی چوٹو پر پاکستانی پرچم لہرانے کی خواہش رہی۔ انھوں نے سن انیس سو چوون میں اطالوی کوہ پیماؤں کے مشن میں اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ اور ایک مرحلے پر اپنی جان تک کی بازی لگا دی۔ لیکن اس تاریخی مشن میں کےٹو کے برفیلے پہاڑوں پر مہدی کے ساتھ دغا ہوا۔ چوٹو سر کی دو اطالوی کوہ پیماؤں کمپیونی اور لِینو لاچادیلی نے اور دنیا میں نام ہوا اُن کا۔ لیکن اس میں مہدی کا کردار کسی کو یاد نہ رہا کہ جس کے بغیر شاید وہ مشن کامیاب ہی نہ ہو پاتا۔

امیر مہدی کی کہانی کی کھوج میں کچھ سرکردہ پاکستانی کوہ پیماؤں سے بات ہوئی تو جلد ہی احساس ہوگیا کہ ان کے بارے میں آج کل لوگ زیادہ کچھ نہیں جانتے۔ وہ گذرے کل کا بندہ تھا جسے سب نے بھلا دیا۔ وہ تو بھلا ہو کریم آباد کے پروفیسر شیر علی کا جو امید کی کرن ثابت ہوئے اور انہوں نے حسن آباد میں امیر مہدی کے صاحبزادے سلطان علی سے میرا رابطہ کرا دیا۔

سلطان علی اپنے گاؤں میں نمبردار صاحب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ریاست ہُنزہ کے زمانے کا یہ عہدہ پہلے اُن کے والد کے پاس تھا اور بعد میں اُن کے حصے میں آیا۔

’میرے والد کے۔ٹو کی چوٹو پر اپنے ملک کا پرچم لہراناچاہتے تھے، مگر اُس مشن پر اُن کے ساتھ زیادتی ہوئی اور وہ بڑی مصیبت کا شکار ہوئے ۔‘

کے۔ٹو کے اس مشن سے ایک سال پہلے امیر مہدی نانگا پربت سرکرنے والی آسٹرین ٹوم کے ہمراہ اپنی ہمت اور بہادری کے جوہر دکھا چکے تھے ۔

امیر مہدی اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ

اگلے برس اٹلی کی کوہ پیما ٹوم نے ریاست ہنزہ کے حکمران میر جمال خان سے رابطہ کرکے کےٹو کے مشن کے لیے اُن سے اُن کے مضبوط ترین بندے مانگے۔ سلطان علی بتاتے ہیں: ’اُس وقت شاہی دربار سے میں کئی سو امیدواروں کے ہجوم میں سے جن مقامی کوہ پیماؤں کو اس کام کے لیے نامزد کیا گیا اُن میں امیر مہدی کا نام سرِفہرست تھا۔‘
بس پِھر کیا تھا۔ اطالوی کوہ پیماؤں کے مشن میں مہدی نے اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کوہ پیماؤں نے بعد میں خود لکھا کہ اُس سفر میں اُن کا سامان اٹھانے والے کئی سو پاکستانی قلی تھے، لیکن مہدی کی بات اور تھی۔ وہ سب سے زیادہ بہادر، محنتی اور قابلِ اعتبار سمجھے جانے والے مقامی کوہ پیماؤں میں سے ایک تھے۔

کے ٹو پر کیا ہوا؟

ہوا یوں کہ چوٹو سر کرنے سے ایک دن پہلے امیر مہدی اور ابھرتے ہوئے کوہ پیما والٹر بوناتی سے کہا گیا کہ وہ چوٹو کے قریب موجود دو ساتھوں کے لیےنیچے سے آکسیجن سلنڈر لے کرآٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر پہنچیں۔
سلطان علی بتاتے ہیں: ’اکثر مقامی مزدوروں نے انکار کر دیا تھا۔ لیکن میرے والد نے اس لیے حامی بھر لی کیونکہ ریاست ہنزہ کی عزت کا سوال تھا اور انہیں چوٹو سر کرنے کا موقع مل رہا تھا۔
کے ٹو پر جانے والی ٹیم جس میں امیر مہدی انتہائی بائیں جانب کھڑے ہیں
لیکن شام گئے جب مہدی اپنے ساتھی بوناتی کے ہمراہ بلندی پر موجود طے شدہ مقام پر پہنچے تو وہاں انہیں کوئی پڑاؤ نظر نہیں آیا۔ ان دونوں نے اپنے ساتھیوں کمپیونی اور لاچادیلی کو بہت آوازیں دیں۔ لیکن برفیلی ٹھنڈ اور بڑھتے اندھیرے میں انہیں کہیں دور سے صرف یہ آواز آئی کہ ’آکسیجن سلنڈر یہیں رکھو اور واپس نیچے چلے جاؤ۔‘ اور پھر ان کا ایک دوسرے سے رابطہ منقطع ہو گیا۔
اُس وقت تک رات ہو چکی تھی، مہدی اور بوناتی تھکن سے چور تھے اور ایسے حالات میں اُن کےلیے واپس اترنا ممکن نہ تھا۔
مجبوری میں دونوں کو وہ رات بغیر کسی خیمے کے، برف کی سل پر منفی پچاس ڈگری سینٹو گریڈ ٹھنڈ میں گذارنی پڑی۔
سلطان علی اپنے والد کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ وہ لوگ تو موت کےلیے تیار تھے، لیکن ان کی قسمت اچھی تھی کہ بعد میں وہ اس صورتحال سے زندہ بچ نکلے۔
یہ بات کئی دہائیوں بعد ثابت ہوئی کہ اوپر چوٹو کے قریب موجود دو اطالوی کوہ پیماؤں نے جان بوجھ کر اپنا خیمہ طے شدہ جگہ سے بدل کر اور اوپر ایسی مشکل جگہ پر لگا دیا تھا جہاں نیچے سے آنے والے اُن کے دو ساتھی نہ پہنچ سکیں۔ مقصد تھا بونُاتی اور مہدی کو چوٹو سر کرنے سے دور رکھنا تا کہ چار نہیں بلکہ صرف وہ دو ہی یہ تاریخی اعزاز حاصل کر سکیں۔ کمپیونی کو خاص کرکے یہ خدشہ تھا کہ اگر بُوناتی کو چوٹو سر کرنے کا موقع ملتا تو وہ نسبتا کم عمر اور بہتر صحت کی وجہ سے اُن سے پہلے میدان مار لیں گے۔
اگلی صبح سورج کی پہلی کرن نکلتے ہی مہدی اور بوناتی نے آکسیجن سلنڈر وہیں چھوڑے اور نیچے کا سفر شروع کیا۔
جبکہ دوسری طرف کمپیونی اور لاچادیلی اپنے خیموں سے باہر آئے، انہوں نے پیچھے چھوڑے گئے آکسیجن سلنڈر اٹھائے اور اُن ہی سلنڈروں کی مدد سے کچھ گھنٹوں بعد چوٹو سر کر ڈالی۔

کے ٹو کے بعد

نئی تاریخ رقم ہو گئی۔ کمپیونی اور لاچادیلی اِٹلی کےلیے یہ اعزاز حاصل کرکے قومی ہیرو قرار پائے۔ لیکن بوناتی اور مہدی کے ساتھ انھوں نے جو سلوک کیا اسے سرکاری سطح پر دبا دیا گیا۔
کےٹو کے اس کامیاب مشن کا سب سے زیادہ نقصان مہدی کو اٹھانا پڑا۔
امیر مہدی کو زخمی ہونے کے بعد سٹریچر پر لے جاتے ہوئے
اطالوی کوہ پیما خود تو پوری تیاری اور ضروری ساز و سامان کے ساتھ اوپرگئے تھے۔ لیکن مہدی کو بلند برفانی پہاڑ پر چلنے کے لیے مناسب جوتے تک نہیں تھے۔
برفیلی چٹان پر کھلے آسمان تلے رات گذارنے کے باعث مہدی کے ہاتھ اور پاؤں بری طرح متاثر ہوئے۔ جب تک وہ چل کر واپس بیس کیمپ پہنچے، ان کے پیر جواب دے چکے تھے۔
امیر مہدی کو سٹریچر پر اٹھا کر کئی دن کے پیدل سفر کے بعد پہلے سکردو ہسپتال لایا گیا۔ بعد میں انہیں سی ایم ایچ راولپنڈی منتقل کیا گیا۔
تب تک خاصا نقصان ہو چکا تھا۔ مہدی کے پاؤں کی انگلیاں گل سڑ چکی تھیں اور گینگرین مذید پھیلنے کا خدشہ تھا۔ ایسے میں ڈاکٹروں کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا اور ان کے پیروں کی تمام انگلیاں کاٹ دی گئیں۔
آٹھ ماہ کے علاج کے بعد جب مہدی واپس اپنے گاؤں ہنزہ پنہچے تو انہوں نے اپنی پہاڑی کدال کو ایک طرف پھینک دیا اور گھر والوں سے کہا کہ اسے دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتے ۔
ان کے صاحبزادے سلطان علی کہتے ہیں: ’وہ کوہ پیما تھے اور یہ کھدال انہیں اُس تکلیف دہ رات کی یاد دلاتی جب وہ موت کے منہ سے بچ نکلے۔‘
ان کے ساتھی اطالوی واپس اٹلی گئے، انہوں نے کوہ پیما ئی کے شعبےمیں نام کمایا، کتابیں لکھی، پیسہ بنایا۔ لیکن مہدی پھر کبھی پہاڑ پر نہیں چڑھنے کے قابل نہ رہے۔
کے۔ٹو پر مہدی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اٹلی اور پاکستان کی حکومتوں دونوں کے لیے باعث شرمندگی تھا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا اور اٹلی کے کوہ پیماؤں کو مہدی کی مصیبتوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ تاہم دونوں حکومتوں نے اس تنازع پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔

امیر مہدی کا درد

امیر مہدی نے اپنی زندگی کے اگلے پچاس سال مجبوری کی حالت میں گذارے۔

ابتدا میں وہ چلنے پھرنے اور محنت مزدوری سے قاصر رہے اور انہیں معاشی تنگی کا سامنا رہا۔ بعد میں انہوں نے آہستہ آہستہ دوبارہ چلنا سیکھ لیا۔

اٹلی کی حکومت کی جانب سے انہیں سرٹوفکیٹ ارسال کیے گئے جن کے مطابق انہیں اعزازات سے نوازا گیا۔

گاہے بگا ہے انھیں خط اور کتابیں بھی ملتی رہیں لیکن وہ نہ تو انھیں پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی ان سے ان کے معاشی مسائل آسان ہوئے۔

امیر مہدی کے صاحبزادے سلطان علی اپنے والد کی کے ٹو پر استعمال کی گئی کدال کے ساتھ

سلطان علی کے مطابق، کبھی کھبار ایسے غیر ملکی کوہ پیما ان سے ملنے آتے تھے جنھوں نے مہدی کی بہادری کے قصے سن رکھے تھے۔

’اُن سے بات کرتے ہوئے اکثر ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے تھے، وہ انھیں بتاتے کہ انھوں نے اپنے ملک کی عزت کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالی لیکن ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔‘

اٹلی میں سرکاری سطح پر ایک لمبے عرصے تک کے۔ٹو کی اصل حقیقت کی پردہ پوشی کی جاتی رہی۔ بالآخر سنہ 2004 میں لاچادیلی کی یاداشتوں پر مبنی ایک کتاب سامنے آئی جس میں انھوں نے اصل واقعات کا اقرار کیا۔ تب جا کر سنہ 2007 میں اٹلی نے سرکاری طور پر یہ مانا کہ کے۔ٹو میں ان کے کوہ پیماؤں کی کامیابی شاید مہدی اور بوناتی کی قربانیوں کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔

لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی، کیونکہ امیر مہدی اپنا درد اپنے دل میں لیے چھیاسی برس کی عمر میں سن ننانوے میں اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔

پاکستان کےلیے جو اعزاز امیر مہدی حاصل کرنا چاہتے تھے وہ اطالوی مشن کے کوئی تیئیس برس بعد، ہنزہ سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور کوہ پیما کے حصے میں آیا اور1977 میں اشرف امان وہ پہلے پاکستانی بنے جنہوں نے کےٹو کو سر کیا۔

Source

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: